LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے افغان حملے اور خطے میں تزویراتی برتری کا حصول

News Image
اسلام آباد افغان سرزمین پر ہونے والے حملوں کو اپنی اندرونی شورش اور سکیورٹی خدیدات سے نمٹنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد خطے میں وسیع تر تزویراتی برتری حاصل کرنا ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے حالیہ عرصے میں افغانستان کے اندر کی جانے والی کارروائیوں اور حملوں کا دائرہ کار محض تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے گہرے تزویراتی مقاصد پوشیدہ ہیں جن کا مقصد خطے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا اور طویل المدتی سکیورٹی اہداف کا حصول ہے۔ اسلام آباد اس عسکری دباؤ کو اپنی اندرونی شورش اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے دفاع کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی توجیہہ پیش کی جا سکے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس حکمت عملی کا بنیادی ہدف نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے بلکہ کابل پر ایک ایسا دباؤ برقرار رکھنا ہے جو پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کے عین مطابق ہو۔ افغان طالبان کی حکومت کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات رہے ہیں، جنہیں افغان حکومت مسترد کرتی آئی ہے۔ دوسری جانب، پاکستانی سکیورٹی حلقے اس بات پر بضد ہیں کہ ان کی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والے عناصر کو روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ صورتحال دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے تناؤ کو جنم دے رہی ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک دونوں ممالک سرحد پار سکیورٹی کے معاملات پر کسی متفقہ لائحہ عمل پر نہیں پہنچتے، اس قسم کے دباؤ اور کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس پورے تنازع میں تزویراتی برتری کی یہ جنگ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔