World
میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم اور انصاف کا سوال
سال 2017 کے ہولناک مظالم کے نو سال بعد بھی روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں مسلسل جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔ اگر میانمار میں ایک بھی روہنگیا باقی نہ بچا تو وہاں انصاف کی شکل کیا ہوگی، اس پر عالمی سطح پر گہرے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سال 2017 کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے وحشیانہ مظالم اور خونریز کارروائیوں کو نو سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی مصیبتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، روہنگیا برادری کو اب بھی میانمار سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں جاری نسلی صفایا اور ظلم کا سلسلہ کبھی رکا ہی نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر میانمار میں ایک بھی روہنگیا مسلمان باقی نہیں بچا، تو وہاں انصاف کا مفہوم کیا رہ جائے گا؟
سنہ 2017 میں ریاست راکھین میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش اور دیگر پڑوسی ممالک میں پناہ لی تھی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے اس پرتشدد کارروائی کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا تھا، تاہم اس کے باوجود میانمار کی فوجی حکومت کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ زمینوں پر قبضے، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور روزمرہ کی زندگی پر پابندیوں نے روہنگیا مسلمانوں کے لیے جینا محال کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ آج بھی اپنی جانیں بچانے کے لیے سمندری اور زمینی راستوں سے خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
عالمی سطح پر انصاف کے دعوے کرنے والے ادارے اب تک اس سنگین بحران کے پائیدار حل میں ناکام نظر آتے ہیں۔ بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات درج ہونے کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور مظالم کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے، تو میانمار سے روہنگیا شناخت کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا، جو انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ثابت ہوگا۔ انصاف کے تقاضے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے اور بے گھر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق اور باعزت واپسی کی ضمانت دی جائے۔