Business
بھارتی فیملی دفاتر کے اثاثے ڈیڑھ گنا اضافے کی نوید
جولিয়াস بائیر اور ارنسٹ اینڈ ینگ کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، بھارت کے فیملی دفاتر کے زیر انتظام اثاثے اگلے تین برسوں میں ڈیڑھ گنا تک بڑھ جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی وجہ سے ان اثاثوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں فیملی دفاتر کے مالیاتی منظر نامے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حوصلہ افزا رپورٹ سامنے آئی ہے۔ معروف مالیاتی ادارے جولিয়াস بائیر اور مشاورتی فرم ارنسٹ اینڈ ینگ (ای وائی) کی مشترکہ تحقیق کے مطابق، ملک میں فیملی دفاتر کے زیر انتظام اثاثے اگلے تین برسوں کے دوران ڈیڑھ گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ سنہ 2024 میں ان اثاثوں کی مالیت تقریباً 700 ارب بھارتی روپے (یعنی لگ بھگ 7.1 ارب ڈالر) ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں آئندہ چند سالوں کے دوران انتہائی تیز رفتار اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ترقیاتی رفتار ملک میں بڑھتی ہوئی نجی دولت، نئے کاروباری رجحانات اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں انتہائی دولت مند افراد اور خاندان اب اپنے سرمائے کے تحفظ اور بہتر منافع کے لیے پیشہ ورانہ انداز میں فیملی دفاتر کا رخ کر رہے ہیں۔ ماضی کے روایتی طریقوں کے برعکس اب یہ خاندان وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی اور گلوبل مارکیٹس میں اپنے سرمائے کو متنوع بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ای وائی اور جولিয়াস بائیر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معیشت کے استحکام اور پالیسی ساز سطح پر اصلاحات نے ان فیملی دفاتر کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا ہے، جس کی بدولت ان کے زیر انتظام فنڈز کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اس معاشی اضافے کے نتیجے میں نہ صرف ان خاندانی کاروباروں کو وسعت مل رہی ہے بلکہ ملک کے مجموعی مالیاتی اور کارپوریٹ سیکٹر کو بھی تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ نئی جنریشن کے کاروباری افراد اور پیشہ ور مینیجرز کی آمد سے فیملی دفاتر کے کام کرنے کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو اب ڈیجیٹل ٹولز اور جدید رسک مینجمنٹ کی حکمت عملیوں کو اپنا رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے دنوں میں ہندوستان کو عالمی سطح پر دولت کے انتظام کا ایک بڑا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، اور اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔