LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ روس پابندیاں: بھارت اور چین پر سو فیصد ٹیرف کا انتباہ

News Image
امریکی سینیٹ میں روس کے خلاف ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت روسی توانائی کی برآمدات پر بھاری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس قانون سازی کے اثرات سے بھارت اور چین جیسے ممالک کی معیشتوں کو سو فیصد تک ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں روس کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد ماسکو کی توانائی کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے۔ مرحوم سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے منسوب اس بل کے تحت اگر روس کے خلاف سخت پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں تو اس کے عالمی معیشت بالخصوص ایشیائی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قانون سازی کے نتیجے میں بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ ممالک روس سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بل کے نفاذ کی صورت میں بھارت اور چین سے آنے والی درآمدات پر ایک سو فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کا سنجیدہ خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس طرح کے اقدام کا مقصد ماسکو کی جنگی مالی معاونت کو کمزور کرنا ہے، تاہم اس سے عالمی سطح پر تجارتی جنگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ دونوں ممالک اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ممکنہ سفارتی اور معاشی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان کے ملکی مفادات محفوظ رہ سکیں۔ دوسری جانب، امریکی قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس قسم کے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو کو تنہا کیا جا سکے۔ عالمی منڈی میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد تیل اور توانائی کی قیمتوں میں بھی بے یقینی کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے اور تجارتی حلقے اس بل کے حتمی اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بل پر ہونے والی بحث اور ووٹنگ کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ امریکہ کی یہ پالیسی عالمی تجارت اور بالخصوص ہند-چین معیشتوں کے لیے کتنی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔