LIVE
Loading Breaking News...

مغربی فلمیں اور کرداروں کی علامات: سفید بمقابلہ کالا ہیٹ

News Image
مغربی فلموں اور کہانیوں میں ہیرو کے سفید اور وِلن کے کالے ہیٹ پہننے کی روایت انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران پروان چڑھی۔ اس علامتی تفریق نے سنیما کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
مغربی سنیما اور روایتی کہانیوں میں کرداروں کی شناخت کے لیے کئی قسم کی علامات استعمال کی جاتی رہی ہیں، جن میں لباس اور خاص طور پر ہیٹ کا استعمال انتہائی نمایاں رہا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب کاؤبائی فلمیں اور سیریلز مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچے، تو ہدایت کاروں اور کہانی نویسوں نے ناظرین کی آسانی کے لیے اچھے اور برے کرداروں میں فرق کرنے کی غرض سے مخصوص بصری اشارے وضع کیے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور ہونے والی علامت ہیرو کا سفید ہیٹ اور وِلن کا کالا ہیٹ پہننا تھی۔ اس روایت نے نہ صرف فلمی صنعت کو ایک نئی سمت دی بلکہ مقبول عام ثقافت میں بھی ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لی۔ اگرچہ ہر مغربی فلم یا ناول نے اس فرسودہ کلچرسے ہو بہو پیروی نہیں کی، تاہم 1930ء کی دہائی تک کاؤبائی سیریلز میں یہ ایک مستقل بصری اشارہ بن چکا تھا کہ شو کا ہیرو سفید ٹوپی پہنے گا جبکہ اس کا مقابلہ کرنے والا منفی کردار کالا ہیٹ زیب تن کرے گا۔ اس علامتی تفریق کا مقصد ناظرین بالخصوص کم عمر ناظرین کے لیے یہ سمجھنا آسان بنانا تھا کہ کہانی میں کون سا کردار نیکی کی نمائندگی کر رہا ہے اور کون سا بدی کا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فلم سازوں نے اس سیدھے سادھے فارمولے میں تبدیلیاں بھی کیں تاکہ کہانیوں میں گہرائی پیدا کی جا سکے اور کرداروں کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا جا سکے، لیکن سفید اور کالے ہیٹ کی یہ علامتی حیثیت برقرار رہی۔ اس روایت کے پس منظر میں انسانی نفسیات اور قدیم تمثیلی روایات کا بھی بڑا ہاتھ ہے، جہاں سفید رنگ کو عام طور پرپ پاکیزگی، روشنی اور اچھائی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ سیاہ رنگ اندھیرے، خطرے اور برائی کو ظاہر کرتا ہے۔ مغربی فلموں کے ابتدائی دور میں جب تکنیکی سہولیات محدود تھیں اور کہانیوں کو تیزی سے ناظرین تک پہنچانا مقصود ہوتا تھا، تو اس قسم کے بصری شارٹ کٹس انتہائی کارآمد ثابت ہوتے تھے۔ ناظرین پردے پر کردار کو دیکھتے ہی اس کے ارادوں کا اندازہ لگا لیتے تھے، جس سے کہانی کا سسپنس اور تفریح کا عنصر بڑھ جاتا تھا۔ آج کے جدید دور میں اگرچہ سنیما بہت آگے نکل چکا ہے اور کردار اتنے سادہ نہیں رہے کہ انہیں صرف سفید یا کالے لباس سے پہچانا جا سکے، تاہم کلاسک مغربی فلموں کی یہ روایت آج بھی پاپ کلچر کا ایک اہم حصہ ہے۔ فلمی نقاد اور مورخین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہیٹ کی اس علامت نے سنیما کی بصری زبان کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی جب کبھی پرانے دور کی وائلڈ ویسٹ فلموں کا ذکر آتا ہے، تو ذہن میں سب سے پہلے سفید اور کالے ہیٹ پہنے ہوئے کاؤبائیز کی تصاویر ہی ابھرتی ہیں، جو اس دور کی ایک ناقابل فراموش یادگار ہیں۔