LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور پاک ایران تعلقات کا مستقبل

News Image
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دورے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران نے خطے میں ایک نئی سیاسی اور عسکری بحث کو جنم دیا ہے۔ اس دورے کے دوران ایرانی صدر اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور سرحدی سکیورٹی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس اعلیٰ سطح کے رابطے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے بعض امور پر عدم اعتماد کو کم کرنا اور باہمی تعاون کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ دورے سے قبل اطلاعات کے مطابق پاکستانی عسکری قیادت اور عالمی سطح پر ہونے والے رابطوں نے اس سفارتی پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر نے اس بات کا اظہار کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ تہران میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران خطے کے مجموعی حالات، خصوصاً سکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر بھی زور دیا گیا تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاک ایران تعلقات کی نوعیت خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ ماضی میں سرحدی امور اور سکیورٹی کے حوالے سے کچھ چیلنجز سامنے آئے ہیں، تاہم دونوں ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ہمیشہ سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔ جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر مزید قریب لانا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔