World
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی
کینیڈا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ نئے محصولات کے جواب میں سخت جوابی ٹیرف عائد کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے ہرگز نہیں جھکیں گے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان کشیدگی اس وقت نئی بلندیوں کو چھونے لگی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے محصولات عائد کیے جانے کے بعد کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کی تیاری کر لی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین حکومت امریکی ٹیرف کے اثرات سے نمٹنے اور اپنی معیشت کا دفاع کرنے کے لیے جلد ہی جوابی محصولات کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم تجارتی تعلقات کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کینیڈین رہنماؤں کو مبینہ طور پر 'لائن پر آنے' کا سخت لہجہ اختیار کرنے پر کینیڈا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کینیڈین سیاسی حلقوں اور عوام کا دوٹوک موقف ہے کہ اگرچہ کینیڈا کبھی بھی کسی تجارتی جنگ کا خواہاں نہیں رہا ہے، تاہم وہ کسی بھی قسم کی دھونس یا دباؤ کو بھی برداشت نہیں کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجارتی تناؤ سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے اہم ترین تجارتی شراکت دار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا کی جانب سے ممکنہ جوابی ٹیرف امریکی معیشت کے مخصوص شعبوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں تاکہ واشنگٹن پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنے یکطرفہ فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات انتہائی کٹھن ہوں گے۔ عالمی سطح پر معاشی ماہرین اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس تجارتی جنگ کے اثرات صرف شمالی امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی مارکیٹ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔