World
امریکی عوام میں ایران جنگ کی حمایت کم، ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی
ایک نئے عوامی سروے کے مطابق امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے لیے عوامی حمایت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
امریکہ میں سامنے آنے والے ایک تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ کے حوالے سے امریکی عوام کی حمایت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ ملک کے اندر جنگ مخالف جذبات تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ شہری اب اس قسم کے تنازعات سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔ دوسری جانب اس تمام صورتحال کا براہ راست اثر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن پر بھی پڑا ہے، جن کی مقبولیت کی شرح اپنے ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے یہ سیاسی طور پر ایک انتہائی مشکل وقت ہے کیونکہ انہیں اندرونی محاذ پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی خدشات اور خارجی محاذ پر کشیدگی میں اضافے کے باعث عام امریکی ووٹرز میں بے چینی پائی جاتی ہے، جس کا اظہار حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں واضح طور پر ہو رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ان منفی جائزوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ریپبلکن پارٹی کے خلاف ایک منظم ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اگر عوامی حمایت کا یہ گراف اسی طرح نیچے جاتا رہا تو آنے والے دنوں میں انتظامیہ کے لیے ملکی اور بین الاقوامی پالیسیوں کو آگے بڑھانا مزید کٹھن ہو جائے گا۔ اس تنازع نے ایک بار پھر امریکی سیاست میں جنگ اور امن کے سوال کو مرکزی حیثیت دے دی ہے جہاں عام شہری براہ راست حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔