LIVE
Loading Breaking News...

ٹریژری ییلڈز اور اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کی نئی حکمت عملی

News Image
آویوا انویسٹمنٹس کے رچرڈ سلڈانہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ بڑھتی ہوئی ییلڈز ترقیاتی شعبوں پر دباؤ بڑھا رہی ہیں جس سے پورٹ فولیو میں تنوع لانے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ٹریژری ییلڈز میں جاری اضافے نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ اس حوالے سے معروف مالیاتی ادارے آویوا سے وابستہ ماہر رچرڈ سلڈانہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ اسٹاک سرمایہ کار اپنے روایتی طریقوں پر نظرثانی کریں۔ ٹریژری ییلڈز میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر وہ کاروباری شعبے دباؤ کا شکار ہیں جو طویل مدتی ترقی پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب سرکاری بانڈز پر منافع بڑھتا ہے تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں ان محفوظ متبادلات کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ رچرڈ سلڈانہ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنائیں اور رسک مینجمنٹ کی بہتر حکمت عملی اپنائیں۔ محض روایتی حصص پر انحصار کرنے کے بجائے اب مختلف سیکٹرز میں سرمائے کی تقسیم وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اس سے نہ صرف متوقع نقصانات سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے بلکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران مالیاتی استحکام بھی برقرار رہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مرکزی بینکوں کی آئندہ مانیٹری پالیسیوں کا انحصار افراط زر اور روزگار کے اعداد و شمار پر ہوگا۔ جیسے جیسے یہ اقتصادی اشاریے سامنے آئیں گے، ٹریژری ییلڈز میں مزید تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آویوا اور دیگر بڑے مالیاتی اداروں کے ماہرین مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سرمایہ کار اپنے مالیاتی مشیروں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی بڑا قدم اٹھائیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع معاشی جھٹکے سے محفوظ رہا جا سکے۔