Business
ڈونلڈ ٹرمپ نے وی آئی جی فنڈ کے شیئرز کیوں فروخت کیے؟ تفصیلی جائزہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں وی آئی جی فنڈ کے کروڑوں روپے مالیت کے شیئرز فروخت کر دیے۔ اس اقدام کے بعد سرمایہ کاری کی دنیا میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مالیاتی سرمایہ کاری میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے مقبول ترین ڈیویڈنڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF) وی آئی جی (VIG) کے لاکھوں ڈالر کے شیئرز فروخت کر دیے ہیں۔ مالیاتی اور کاروباری حلقوں میں اس اقدام کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ کی پورٹ فولیو میں ہونے والی یہ تبدیلیاں مستقبل کے معاشی رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جون کے مہینے میں کی جانے والی اس ٹرانزیکشن کے دوران وی آئی جی کے حصص کی ایک بڑی مقدار کو ٹھکانے لگایا گیا جبکہ ایس سی ایچ ڈی (SCHD) جیسے دیگر فنڈز کو ہولڈ رکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایس سی ایچ ڈی فنڈ نے رواں سال کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وی آئی جی کے مقابلے میں بہتر منافع بخش رجحان دکھایا ہے۔ جہاں وی آئی جی نے اس سال اب تک بارہ فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے، وہیں ایس سی ایچ ڈی نے تیس فیصد تک کا زبردست منافع حاصل کیا ہے۔ اس بڑی کارکردگی کے فرق کے باوجود ٹرمپ کا وی آئی جی کو فروخت کرنا اور دیگر حصص پر توجہ دینا سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
وی آئی جی کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر اہم کمپنیوں میں نئی سرمایہ کاری کا آغاز بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایف آئی ایس (FIS) اور ایچ ڈی (HD) جیسی بڑی کمپنیوں میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے مشہور فنڈ ایکس ایل کے (XLK) میں بھی اپنے حصے کو مزید وسعت دی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ تبدیلیاں ان کے ذاتی مالیاتی مفادات اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔
اس پوری صورتحال نے عام سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا انہیں بھی اپنے پورٹ فولیو میں ٹرمپ کی طرز پر تبدیلیاں کرنی چاہئیں یا نہیں۔ اگرچہ سابق صدر کے یہ مالیاتی فیصلے ان کی ذاتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، تاہم یہ وال اسٹریٹ اور اسٹاک مارکیٹ کے مبصرین کے لیے گہری تحقیق کا موضوع بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ نئی سرمایہ کارییں طویل مدت میں سابق صدر کے لیے سودمند ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔