Business
بھارت میں بلاک چین پر مبنی پہلے کارپوریٹ بانڈز کا ستمبر میں اجرا
بھارت اگلے ماہ بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے پہلے ٹوکنائزڈ کارپوریٹ بانڈز کا اجرا کرنے جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بانڈ کے لین دین کی فوری تصفیہ اور مالیاتی منڈی میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
بھارت کی مالیاتی منڈی میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے جہاں ملک ستمبر کے مہینے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے پہلے ٹوکنائزڈ کارپوریٹ بانڈز جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد بانڈز کے لین دین کے نظام کو زیادہ جدید، محفوظ اور تیز رفتار بنانا ہے تاکہ روایتی طریقہ کار میں لگنے والے طویل وقت کو کم کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے نفاذ سے بانڈز کی خرید و فروخت کا تصفیہ اب فوری طور پر ممکن ہو سکے گا۔
حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر مالیاتی اداروں نے بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کا یہ قدم بھی اسی رجحان کا حصہ ہے جس کا مقصد ملکی کیپیٹل مارکیٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔ ٹوکنائزڈ بانڈز کے اجراء سے نہ صرف کاغذی کارروائی میں کمی آئے گی بلکہ انسانی غلطیوں کے امکانات بھی کم سے کم ہو جائیں گے۔
اس آزمائشی مرحلے کی کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر میں ڈیجیٹل بانڈز کے رجحان کو مزید فروغ ملے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا یہ استعمال مالیاتی منڈیوں میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو بین الاقوامی سطح پر بھارتی معیشت کی ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا اور سیکیورٹیز کے لین دین میں شفافیت کی نئی راہیں کھولے گا۔