LIVE
Loading Breaking News...

کیئر لیورز کی قبل از وقت اموات پر تشویشناک رپورٹ

News Image
ایک نئے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ کیئر سسٹم سے باہر آنے والے نوجوانوں کی شرح اموات عام آبادی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال کو ایک بڑا قومی المیہ قرار دیتے ہوئے فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ چلڈرن کیئر یا فوسٹر کیئر سسٹم سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کی قبل از وقت اموات کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ ماہرین اور فلاحی اداروں نے اس تشویشناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑا 'قومی المیہ' قرار دیا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ نوجوان اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد سرکاری تحویل یا کیئر سسٹم سے باہر نکلتے ہیں، تو انہیں زندگی کی بنیادی مشکلات کا اکیلے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس منتقلی کے عمل کے دوران مناسب رہنمائی، مالی استحکام، روزگار کے مواقع اور ذہنی صحت کی معاونت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوان شدید دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کیئر لیورز میں خودکشی کے رجحانات، منشیات کے استعمال اور حادثاتی اموات کا خطرہ عام نوجوانوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف اٹھارہ سال تک بچے کی دیکھ بھال کرنا نہیں ہے بلکہ اسے معاشرے میں ایک خود کفیل اور صحت مند شہری کی حیثیت سے آباد کرنا بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مصنفین اور سماجی کارکنان نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کیئر لیورز کے لیے سپورٹ کے نظام کو طویل المدتی بنایا جائے۔ بچوں کو کیئر سسٹم سے نکالنے کے بعد بھی ان کی نگرانی کا ایک مؤثر مکینزم ہونا چاہیے تاکہ وہ تنہائی اور بے روزگاری کا شکار نہ ہوں۔ ماہرین کا اس بات پر زور ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ قومی المیہ مزید گہرا ہو سکتا ہے، اور معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان اپنی زندگیوں سے محروم ہوتے رہیں گے۔