Politics
امریکہ میں اے پیک کا سیاسی اثر و رسوخ اور بدلتی ہوئی صورتحال
امریکہ میں طاقتور پرو اسرائیلی لابی گروپ اے پیک کا سیاسی اثر و رسوخ اب ملکی سیاست میں تنقید کی زد میں آ رہا ہے۔ یہ گروپ ملک کے بائیں بازو کے ترقی پسند حلقوں کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کے لیے بھی ایک سیاسی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔
امریکہ کی با اثر ترین لابی تنظیموں میں شمار ہونے والی تنظیم 'اے پیک' (AIPAC) کو لے کر اب واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ امریکی سیاست میں اس طاقتور پرو اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ بتدریج کم ہو رہا ہے اور اس کی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اے پیک اب نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند اور بائیں بازو کے رہنماؤں کے لیے بلکہ دوسری طرف ریپبلکن پارٹی کے بعض دائیں بازو کے حلقوں کے لیے بھی ایک سیاسی بوجھ کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پالیسی سازوں کے نزدیک اس تنظیم کی جانب سے انتخابات میں کھل کر رقم خرچ کرنے اور جارحانہ لائحہ عمل اپنانے کی وجہ سے روایتی دو طرفہ حمایت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
امریکی عوام بالخصوص نوجوان نسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر روایتی امریکی پالیسی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ کانگریس اور سینیٹ کے اندر بھی کئی اراکین اب اے پیک کی ہدایات پر اندھا دھند عمل کرنے سے کتراتے نظر آتے ہیں اور وہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی ترجیحات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا اے پیک اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوپاتی ہے یا پھر امریکہ کے بدلتے ہوئے سیاسی افق میں اس کا کردار مزید محدود ہو جائے گا۔ فی الحال، امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی polarisation کے تناظر میں اس لابی گروپ کے گرد گھیرا تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔