Health
ٹی بی کی سستی تشخیص: منی ڈاگ ٹیکنالوجی کی تفصیلات
پلس لائف بائیوٹیک کی منی ڈاگ ٹیکنالوجی نے تپ دق یعنی ٹی بی کی تشخیص کے عمل کو انقلابی انداز میں تبدیل کر دیا ہے۔ صرف دو اعشاریہ چھ ڈالر فی ٹیسٹ کی لاگت سے یہ دنیا کا سب سے سستا مالیکیولر ٹیسٹ بن گیا ہے۔
صحت کے عالمی شعبے میں تپ دق یعنی ٹی بی کی تشخیص کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پلس لائف بائیوٹیک کی جانب سے تیار کردہ منی ڈاگ ٹیکنالوجی نے ٹی بی کے ٹیسٹ کو دنیا بھر کے لیے انتہائی سستا اور آسان بنا دیا ہے۔ اب صرف دو اعشاریہ چھ ڈالر فی ٹیسٹ کی لاگت سے یہ دنیا کا سب سے سستا مالیکیولر ٹیسٹ بن چکا ہے جو نہ صرف بلغم بلکہ زبان کے swab کے نمونوں پر بھی کامیابی سے کام کر سکتا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے تعارف سے طبی ماہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اب تک ٹی بی کی درست اور بروقت تشخیص کے لیے مہنگے آلات اور لیبارٹریز کی ضرورت ہوتی تھی جو ترقی پذیر ممالک میں ہر مریض کی پہنچ سے دور تھے۔ منی ڈاگ ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی مریضوں کی فوری اسکریننگ ممکن ہو سکے گی، جس سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی اور بروقت علاج شروع کیا جا سکے گا۔
طبی محققین کا کہنا ہے کہ ٹی بی جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں تشخیصی عمل کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نتائج نہ صرف جلدی ملتے ہیں بلکہ ان کی درستگی کی شرح بھی روایتی طریقوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ عالمی سطح پر صحت کے اداروں نے اس قدم کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے لاکھوں انسانی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔
حکومتوں اور عالمی صحت کے اداروں کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اگر اس سستی ٹیسٹنگ کٹ کو عام آدمی تک رسائی مل جائے تو آنے والے سالوں میں تپ دق کے عالمی خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنا بہت حد تک آسان ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف طبی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ کروڑوں مریضوں کو معیاری تشخیص کی سہولت بھی میسر آئے گی۔