LIVE
Loading Breaking News...

سنگاپور میں انسانی دماغ کے خلیات پر مبنی دنیا کا پہلا ڈیٹا سینٹر متعارف

News Image
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے طبی اسکول نے انسانی دماغ کے جاندار خلیات کی مدد سے کام کرنے والے دنیا کے پہلے خود مختار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے۔ یہ انقلابی قدم کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک نیا باب رقم کرے گا جس سے توانائی کی بچت کی توقع ہے۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے طبی اسکول نے ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کے پہلے ایسے ڈیٹا سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے جو اپنے کچھ کمپیوٹنگ کے امور کے لیے انسانی دماغ کے جاندار خلیات پر انحصار کرتا ہے۔ اس منفرد اور جدید ترین پروجیکٹ کا مقصد روایتی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں توانائی کی شدید کھپت کو کم کرنا اور بائیو کمپیوٹنگ کے نئے افق دریافت کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور پیچیدہ ڈیٹا پروسیسنگ کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد اس سسٹم کو تیار کیا ہے جس میں بائیولوجیکل نیورونز اور ڈیجیٹل ہارڈویئر کا ایک حیرت انگیز امتزاج پیش کیا گیا ہے۔ اس نئے ڈیٹا سینٹر میں روایتی سلیکن چپس کے ساتھ ساتھ انسانی دماغ کے خلیات سے حاصل شدہ بافتوں کو جوڑ کر ڈیٹا پروسیسنگ کے کچھ مخصوص اور پیچیدہ کام لیے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق زندہ خلیات معلومات کو پروسیس کرنے میں روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں بہت کم توانائی استعمال کرتے ہیں، جو ماحولیاتی لحاظ سے بھی ایک بہترین پیش رفت ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے اجراء کے بعد عالمی سطح پر سائنسی برادری اور ٹیک کمپنیوں کی جانب سے زبردست دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بائیو کمپیوٹنگ کو بڑے پیمانے پر تجارتی بنیادوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ یہ منصوبہ ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہے، لیکن اس کی کامیابی مستقبل میں انتہائی طاقتور، تیز رفتار اور توانائی کی بچت کرنے والے سپر کمپیوٹرز کی تیاری کی راہ ہموار کرے گی۔ سنگاپور نے ایک بار پھر جدید تحقیق میں اپنی سبمیت ثابت کر دی ہے۔