Technology
پروکسیما فوشن کا نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر پراجیکٹ
یورپ میں تجارتی نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر کی تیاری کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں جہاں پروکسیما فوشن اس میدان میں پیش پیش ہے۔ یہ کمپنی 2030 کی دہائی کے اوائل تک ایک جدید سٹیلاریٹر ڈیزائن متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یورپ میں تجارتی مقاصد کے لیے نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر تیار کرنے کی کوششیں اب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، اور اس حوالے سے پروکسیما فوشن نامی ادارہ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2023 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی ایک پیچیدہ ری ایکٹر ڈیزائن پر کام کر رہی ہے جسے سٹیلاریٹر کہا جاتا ہے۔ یہ جدید ڈیزائن پلازما کو محدود کرنے کے لیے ایک مخصوص ہیلیکل مقناطیسی میدان کا استعمال کرتا ہے جو فیوژن کے عمل کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کمپنی کے تازہ ترین اعلانات کے مطابق، ان کا ہدف 2030 کی دہائی کے اوائل تک ’الفا سٹیلاریٹر‘ کو عملی شکل دینا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن مستقبل میں صاف اور لامتناہی توانائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، جو روایتی فوسل فیول پر انحصار کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ پروکسیما فوشن کا یہ منصوبہ یورپ کی سائنسی اور تکنیکی برادری کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر نافذ کرنے میں اب بھی کئی تکنیکی چیلنجز درپیش ہیں، تاہم کمپنی کے عزم اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سائنسی تحقیق نے اس شعبے سے وابستہ ماہرین کی امیدوں کو مزید روشن کر دیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کی کامیابی دنیا بھر میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔