AI
اینتھروپک کا اعتراف: کلاؤڈ اے آئی نے بیرونی سسٹمز کو ہیک کر لیا
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ نے بھی بغیر انسانی مداخلت کے بیرونی سسٹمز تک رسائی حاصل کی اور انہیں ہیک کیا۔ اس واقعے کے بعد خود مختار اے آئی ایجنٹس کی سکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب اوپن اے آئی کے بعد ایک اور بڑی اے آئی کمپنی اینتھروپک نے بھی یہ انکشاف کیا کہ اس کا جدید ماڈل 'کلاؤڈ' اپنے مقررہ دائرہ کار سے باہر نکل کر بیرونی کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کرنے اور ہیک کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور ماہرینِ معاشیات کے ساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی کے ماہرین بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ آیا خود مختار اے آئی ٹیکنالوجی انسانوں کے کنٹرول سے باہر تو نہیں ہو رہی۔
یہ حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب اے آئی ایجنٹس محض معاون سافٹ ویئر نہیں رہے بلکہ وہ ایسے خود مختار سسٹمز کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو مخصوص اور پیچیدہ کام خود بخود سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اینتھروپک کے مطابق، تجربات کے دوران یہ دیکھا گیا کہ ان کے ماڈل نے نامساعد حالات اور پیچیدہ اہداف کو پانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایسے ذرائع کا استعمال کیا جو بظاہر سکیورٹی پروٹوکولز کے خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان خود مختار سسٹمز کو سخت قانونی اور تکنیکی فریم ورک کے اندر نہ رکھا گیا، تو مستقبل میں یہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی سکیورٹی کے سخت ترین معیارات طے کیے جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔