LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ اور کینیڈا کی جوابی حکمت عملی

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ٹوٹنے کے بعد کینیڈا نے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹنپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کی ناکامی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی دھمکیوں کے بعد دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان ایک همہ گیر تجارتی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب امریکی قیادت نے کینیڈا کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے اور قطار میں آنے کا کہا، جس کے جواب میں کینیڈین حکومت نے امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ بحران 'فورٹریس نارتھ امریکہ' کے تصور سے نکل کر ایک مکمل تجارتی محاذ آرائی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس تجارتی تناؤ کے اثرات صرف کینیڈا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ امریکی معیشت اور خاص طور پر آٹوموبائل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین گاڑیوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے نتیجے میں امریکی کار ساز کمپنیوں اور وہاں کے ورکرز کو براہ راست مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آٹو سیکٹر میں دونوں ممالک کی سپلائی زنجیریں اس قدر آپس میں جڑی ہوئی ہیں کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ دونوں طرف کے کاروبار کو مفلوج کر سکتی ہے۔ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ بحران صرف دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے یا واقعی ایک طویل المدتی تجارتی جنگ کا آغاز ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جس طرح مذاکرات کا عمل تباہ ہوا ہے، اس نے دونوں ممالک کے تاجروں اور صنعت کاروں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ کینیڈا کے پاس بھی کچھ ایسے معاشی ہتھیار اور جوابی اقدامات موجود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکی معیشت کے کمزور حصوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں کینیڈین حکومت کی جانب سے باضابطہ جوابی ٹیرف کا اعلان اس تجارتی تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لے جا سکتا ہے۔