LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ کے چھ ماہ: امریکی صدر کا بدلتا ہوا رویہ اور عالمی تشویش

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں مبینہ طور پر بوریت اور زمینی حقائق سے انکار کا عنصر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کی جانب سے اس طویل تنازعے کے خطے اور دنیا بھر پر مرتب ہونے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کو اب چھ ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران خطے میں تناؤ میں کمی آنے کے بجائے مختلف زاویوں سے پیچیدگیاں بڑھتی چلی گئی ہیں۔ حالیہ تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں اس طویل جنگ کے دوران بوریت سے لے کر صورتحال سے انکار تک کے مختلف رجحانات دیکھے گئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کے مقاصد اور اس کے طویل المدتی نتائج کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سوالات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور اخبارات میں شائع ہونے والے خطوط اور اداریوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ایران جیسے ملک کے ساتھ تنازعہ مول لینا کسی مذہبی یا سیاسی شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کے اثرات عارضی نہیں ہوں گے بلکہ آنے والے کئی سالوں تک اس کے سنگین نتائج خطے کے امن اور عالمی معیشت کو متاثر کرتے رہیں گے۔ مختلف آراء میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جنگ کے اخراجات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا حساب کتاب آنے والے وقتوں میں مزید تلخ حقائق کو سامنے لائے گا۔ اس صورتحال نے نہ صرف امریکہ کے اندرونی سیاسی منظر نامے کو گرما دیا ہے بلکہ اتحادی ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر کی جانب سے اس تنازعے کے حوالے سے بیانات میں اکثر لاپرواہی یا حالات سے لاتعلقی کا عنصر جھلکتا ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس جنگ کے اسٹریٹجک مضمرات انتہائی گہرے ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور سفارتی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ اس تنازعے کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔