World
آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ
آبنائے ہرمز کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کے نتیجے میں یونانی ملکیت والا تیل بردار جہاز جزوی طور پر ناکارہ ہوگیا ہے۔ برطانوی بحری تجارت کے ادارے کے مطابق عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایک یونانی ملکیت والے تیل بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد جہاز ناکارہ ہوگیا ہے۔ برطانوی بحری تجارت کے ادارے (UKMTO) نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب پیش آیا۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ فی الحال حرکت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ تاہم، خوش قسمتی سے جہاز پر سوار تمام عملہ محفوظ ہے اور کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ سمندری سکیورٹی کے اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس اہم بحری گزرگاہ پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل کی ترسیل کے لیے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے حساس اور اہم تجارتی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس قسم کے حملے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین اور میری ٹائم سکیورٹی ذرائع کے مطابق جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے یا جہاز کو بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی منڈی میں اس حملے کے بعد تیل کی سپلائی اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے خطے میں سرگرم بحری افواج نے بھی اپنی نگرانی مزید سخت کردی ہے تاکہ اس طرح کے دیگر ناخوشگوار واقعات سے بروقت نمٹا جا سکے اور سمندری تجارت کے اس اہم راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔