LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ بحران: غزہ معاہدہ اور ایرانی حملے

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ مکمل تخفیفِ اسلحہ اور امن کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے دوران ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے جہاں ایک طرف سفارتی محاذ پر بڑی پیش رفت کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف عسکری محاذ پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت حماس کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور علاقے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حماس نے بھی اس حوالے سے ایک مسودے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا ہے جس سے خطے میں ایک اور بڑی جنگ چڑ جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔ کویت میں امریکی اڈوں پر حملے کے بعد خطے میں موجود تمام سفارتی و عسکری تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مبینہ طور پر فلسطینی علاقوں پر دھویں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الجزیرہ اور دیگر عالمی میڈیا کے مطابق غزہ کے حوالے سے ہونے والی اس مبینہ ڈیل میں قیدیوں کے تبادلے اور امدادی سامان کی ترسیل کے امور بھی شامل ہیں، لیکن حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ کی شق پر فریقین کے درمیان حتمی عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ خطے میں امن کی امید جگاتا ہے، تاہم زمینی حقائق اور اسرائیلی حکومت کا ردعمل اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔ بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ خطے میں جاری اس بیک وقت سفارتی ہلچل اور عسکری محاذ آرائی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رکھی ہے۔ آنے والے چند روز اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ امن معاہدہ غزہ کے عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنتا ہے یا پھر مشرق وسطیٰ کا یہ بحران مزید خوفناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔