LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد کے اسپتالوں میں خالی اسامیاں اور طبی مسائل

News Image
اسلام آباد کے اہم سرکاری اسپتالوں میں عملے کی کمی کے باعث شہریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ حکام نے خالی اسامیاں پر کرنے کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی سینکڑوں اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں، جس کی وجہ سے دارالحکومت کے ان اہم طبی اداروں میں مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کا بڑھتا ہوا رش اور اس کے مقابلے میں طبی عملے کی کمی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ شہر کے بڑے اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں مگر ڈاکٹرز کی کمی کے باعث انہیں گھنٹوں طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ خالی اسامیوں میں ماہر ڈاکٹرز، فزیشنز، سرجنز اور نرسنگ اسٹاف کی بڑی تعداد شامل ہے۔ عملے کی کمی کے باعث موجودہ عملے پر کام کا دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ مریضوں کو بھی بروقت طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایمرجنسی اور آئی سی یو جیسے حساس شعبوں میں بھی اسٹاف کی کمی کے باعث تشویشناک صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جہاں ہر لمحہ مریض کی جان کے لیے اہم ہوتا ہے۔ دوسری جانب شہریوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی میں کوتاہی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور حکومت کو چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈاکٹرز اور عملے کی بھرتی کا عمل شروع کرے تاکہ غریب مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ وزارتِ صحت کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے سمری تیار کر لی گئی ہے اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نئی بھرتیاں جلد متوقع ہیں۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں اس عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کر لیا جائے گا تاکہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں عملے کی کمی کے بحران پر قابو پایا جا سکے اور مریضوں کو بہتر طبی ماحول فراہم کیا جا سکے۔