AI
اے آئی چیٹ بوٹ پرائیویسی اور آپ کا ذاتی ڈیٹا
مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے گفتگو کرتے وقت صارفین اکثر ایسی نجی باتیں شیئر کر دیتے ہیں جو وہ کسی کے ساتھ عام نہیں کرنا چاہتے۔ اس رجحان سے صارفین کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ پر بڑے سوالیہ نشان پیدا ہو رہے ہیں۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ ہم روزمرہ کے مسائل کے حل، دفتری امور اور تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ بوٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ اکثر لوگ ان سسٹمز سے ایسی ذاتی باتیں بھی شیئر کر دیتے ہیں جو وہ کبھی سوشل میڈیا پر پبلک نہیں کرنا چاہیں گے۔ مثال کے طور پر صحت کے مسائل، مالیاتی فیصلے یا گھریلو پریشانیاں۔
تاہم، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ چیٹ بوٹس آپ کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں اور آپ کا فراہم کردہ ڈیٹا کہاں جاتا ہے؟ زیادہ تر کمپنیاں اس ڈیٹا کو اپنے ماڈلز کو بہتر بنانے اور تربیت دینے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اگرچہ کمپنیاں ڈیٹا کی حفاظت کے دعویٰ کرتی ہیں، لیکن ہیکنگ یا ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صارفین کو اے آئی سسٹمز پر بھروسہ کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ نجی اور حساس معلومات جیسے کہ بینک ڈیٹیلز، پاس ورڈز یا طبی دستاویزات چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ کمپنیاں اکثر صارفین کے چیٹ ہسٹری کو محفوظ رکھتی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں بہتر سروس فراہم کر سکیں، لیکن یہ عمل پرائیویسی کے حوالے سے تشویشناک ہے۔
حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کی طرف سے بھی اب اے آئی کمپنیوں پر سخت ضوابط لاگو کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ صارفین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی پرائیویسی کی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور غیر ضروری ڈیٹا ہسٹری کو وقتاً فوقتاً ڈیلیٹ کرتے رہیں۔ اس طرح وہ اپنی ذاتی معلومات کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔