LIVE
Loading Breaking News...

فرانس اور ہسپانوی سرحد پر سکیورٹی سخت، سبتہ میں مہاجرین کا داخلہ

News Image
فرانسیسی حکومت نے ہسپانوی سرحد پر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حال ہی میں ہزاروں تارکین وطن نے مراکش سے ہسپانوی انکلیو سبتہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس بحران کے دوران سکیورٹی فورسز اور مہاجرین کے مابین شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے۔
فرانسیسی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہسپانوی سرحد پر سکیورٹی کے دستوں میں اضافہ کریں گے تاکہ یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً انچاس ہزار تارکین وطن نے مراکش سے ہسپانوی انکلیو سبتہ کی سرحد عبور کی ہے۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی نے یورپی یونین کے سرحدی انتظام کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور حکام کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سبتہ کی سرحد پر رات بھر خوف و ہراس اور کشیدگی کا ماحول رہا۔ صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ کچھ مقامات پر تارکین وطن اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ہسپانوی حکام اور امدادی تنظیمیں اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، تاہم اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد نے مقامی انتظامیہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر یورپ میں ہجرت اور سرحدی کنٹرول کے دیرینہ مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ یورپی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ رکن ممالک کو مشترکہ طور پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ فرانس کی جانب سے سرحدی کنٹرول سخت کرنے کا اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ انکلیو سے مین لینڈ یورپ کی طرف تارکین وطن کی بے قابو نقل و حرکت کو روکا جا سکے اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔