Technology
علی بابا کے حصص میں گراوٹ، اے آئی کی سرمایہ کاری کا اثر
چینی تکنیکی ادارے علی بابا کے حصص میں اس وقت شدید کمی دیکھی گئی جب کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے دس ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اس فنڈنگ کا مقصد نئی نسل کی ٹیکنالوجی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
چینی ٹیکنالوجی کے ضخیم ادارے علی بابا کے حصص میں پیر کے روز نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں وسعت لانے کے لیے بھاری فنڈنگ کا اعلان ہے۔ ذرائع کے مطابق علی بابا نے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے تقریبا دس ارب دو سو ملین ڈالر مالیت کی نئی شیئرز پلیسمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس مالیاتی اقدام کے تحت کمپنی غیر امریکی سرمایہ کاروں کو سات سو دس ملین نئے حصص جاری کرے گی، جس سے عالمی منڈی میں کمپنی کے حصص پر وقتی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے اور تمام بڑے تکنیکی ادارے اس دوڑ میں سبقت لے جانے کے لیے کھربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ علی بابا بھی اسی حکمت عملی کے تحت اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اے آئی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تاہم، قلیل مدت میں ہونے والے ان بھاری اخراجات اور حصص کی نئی پیشکش کے باعث کمپنی کے موجودہ منافع پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے اور حصص کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب، علی بابا کی انتظامیہ اس اقدام کو طویل مدتی ترقی کے لیے انتہائی ناگزیر قرار دے رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ فی الحال منافع کے حاشیے متاثر ہو رہے ہیں، لیکن مستقبل میں مصنوعی ذہانت ہی دنیا بھر کے کاروباری اور تکنیکی شعبے کی سمت متعین کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی اپنے ڈیجیٹل اور اے آئی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔