LIVE
Loading Breaking News...

پرانی ٹیکنالوجی سائبر حملوں سے محفوظ کیوں؟

News Image
جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہیں پرانی اور فرسودہ ٹیکنالوجیز بعض اوقات سائبر حملوں سے زیادہ محفوظ ثابت ہوتی ہیں۔ دنیا کی بڑی افواج اور ادارے سکیورٹی اور بھروسہ مندی کے لیے جان بوجھ کر پرانے سسٹمز کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں ہر چیز جدید ترین ڈیجیٹل سسٹمز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر منتقل ہو رہی ہے، وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئی ٹیکنالوجی ہمیشہ بہتر اور محفوظ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، دنیا کے کئی اہم اور حساس ادارے، بشمول دنیا کی سب سے بڑی اور فعال افواج، بعض اوقات جان بوجھ کر پرانی ٹیکنالوجی کا انتخاب کرتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد سکیورٹی اور بھروسہ مندی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ پرانے سسٹمز میں وہ پیچیدگیاں نہیں ہوتیں جو نئے سافٹ ویئر میں پائی جاتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ جہاں سہولیات میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں سائبر خطرات اور ہیکرز کے حملوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جدید ترین سسٹمز انٹرنیٹ سے مسلسل جڑے ہوتے ہیں اور ان میں موجود نایاب خامیاں، جنہیں زیرو ڈے ونرز کہا جاتا ہے، ہیکرز کے لیے رسائی آسان بنا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، پرانی ٹیکنالوجی جو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر منقطع ہوتی ہے یا محدود نیٹ ورک پر چلتی ہے، اس تک رسائی حاصل کرنا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ فوجی اور سرکاری سطح پر اس بات کو بخوبی سمجھا جاتا ہے کہ رسک مینجمنٹ میں پرانے آلات اور سسٹمز کی کیا اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حساس نوعیت کے مواصلاتی رابطوں اور دفاعی تنصیبات میں ایسے آلات استعمال کیے جاتے ہیں جو دیکھنے میں فرسودہ لگتے ہیں لیکن اپنی بنیادی ساخت کی وجہ سے انتہائی محفوظ ہوتے ہیں۔ ان سسٹمز میں ریموٹ ایکسیس کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بیرونی مداخلت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس رجحان سے یہ سبق ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اندھا دھند آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پرانے اور آزمودہ طریقوں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے جیسے سائبر حملے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اداروں کو سکیورٹی کے معاملے میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدیدیت کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اور سسٹمز کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا سکے، چاہے اس کے لیے روایتی اور پرانی ٹیکنالوجی کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑے۔