World
ٹرمپ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ اور نئی پابندیوں کا تجزیہ
امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اور سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کا مقصد تہران کی تجارتی حیات کو مفلوج کرنا ہے۔ چین نے امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ملکی مفادات کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک نئی اور فیصلہ کن 'معاشی جنگ' کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ ایسے اہداف حاصل کیے جا سکیں جو ماضی میں ہونے والے فضائی حملوں اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے بھی حاصل نہیں ہو سکے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقتصادی یلغار کا مقصد ایران کی درآمدی اور برآمدی گزرگاہوں کو بند کرنا اور اس کی معیشت کو مکمل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاشی جنگ کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور کئی ممالک اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب چین نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی اور وسیع تر پابندیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین اپنے جائز تجارتی اور توانائی کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کرے گا اور کسی بھی یکطرفہ پابندی کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین اور ایران کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات ہیں، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، اس لیے امریکہ کی نئی پابندیوں سے عالمی سیاست میں ایک نیا تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایران نے بھی جارحانہ ردعمل دینے کا تہیہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے اور اس اقتصادی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اپنی اس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ خطے میں تیل کی سپلائی اور عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ معاشی پابندیاں واشنگٹن کو اس کے مطلوبہ نتائج دلانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا اس سے خطے میں کشیدگی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔