LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سینیٹ ایران جنگ اختیارات ڈیموکریٹس

News Image
امریکی سینیٹ نے صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش ایک بار پھر ناکام بنا دی ہے تاہم ڈیموکریٹس نے سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سینیٹرز کا اصرار ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے پہلے باضابطہ اعلانِ جنگ ضروری ہے۔
واشنگٹن (نیکسرہ نیوز اردو) امریکی سینیٹ میں ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدارتی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم اس کے باوجود سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی سیاسی مساعی اور دباؤ جاری رکھیں گے۔ حالیہ رائے شماری میں گرچہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن ڈیموکریٹک قانون سازوں کا ماننا ہے کہ اس بحث کے ذریعے انہوں نے اہم سیاسی رفتار حاصل کر لی ہے اور وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی قراردادیں لاتے رہیں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر امریکی کانگریس کے اندر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا صدر کو یکطرفہ طور پر فوج کے استعمال کی مکمل چھوٹ ہونی چاہیے یا نہیں۔ اس تناظر میں ڈیموکریٹس کا اصرار ہے کہ آئینی اعتبار سے کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کا دائرہ کار بڑھانا درست نہیں ہے۔ دوسری جانب، کچھ ریپبلکن اراکین کی طرف سے بھی اس معاملے پر احتیاط برتنے کی صدائیں بلند کی جا رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قانون سازوں کے اندر اس پالیسی پر گہرے اختلافات موجود ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان قراردادوں کی ناکامی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاہم یہ ووٹنگ آئندہ کے صدارتی اور جماعتی تنازعات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی عوام کے سامنے اس مؤقف کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ میں الجھنے سے پہلے پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کرنا ناگزیر ہے اور وہ آئینی چیک اینڈ بیلنس کے اس اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔