LIVE
Loading Breaking News...

عالمی خوراک کی رسد اور تنازعات پر اقوام متحدہ کا مؤقف

News Image
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات کی وجہ سے عالمی غذائی رسد کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی آزادی اور تجارت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری مختلف تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے عالمی خوراک کی رسد اور سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، اور خوراک اب تنازعات میں 'ضلعی نقصان' (collateral damage) کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے غریب ممالک میں غذائی قلت کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ نے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری گزرگاہوں کے ذریعے ضروری اشیاء کی ترسیل کے لیے ایک نئے اور مؤثر میکانزم کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا مقصد دنیا بھر میں سمندری تجارت کی شاہراہوں کو حائل رکاوٹوں سے آزاد کرانا اور بحری جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنانا ہے تاکہ خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ بلا تعطل اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دنیا کے اہم تجارتی راستے تنازعات کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف اشیاء کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں مہنگائی کا طوفان بھی آ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں اور متعلقہ ممالک نے اس معاملے پر فوری تعاون نہ کیا تو آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور خوراک کے بحران میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سمندری گزرگاہوں کو تنازعات سے باہر رکھیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے بحری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ خوراک جیسے بنیادی انسانی حقوق کو کسی بھی جغرافیائی سیاسی تنازعے کا شکار نہیں بنانا چاہیے اور اس حوالے سے فوری اجتماعی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔