LIVE
Loading Breaking News...

چینی یوان میں کمی، پی بی او سی کی پالیسی اور مارکیٹ کا جائزہ

News Image
چینی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں یوان اپنی ساڑھے تین سالہ بلند ترین سطح سے نیچے گر گیا ہے۔ پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے کرنسی کی تیز رفتار ترقی پر تحفظات ظاہر کیے جانے کے بعد یہ کمی دیکھی گئی ہے۔
بیجنگ: چینی کرنسی یوان اپنی ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہے کیونکہ چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) نے کرنسی میں ہونے والے تیز رفتار اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی اور علاقائی سطح پر زر مبادلہ کی مارکیٹس میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور سرمایہ کار صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے اشارے ملنے کے بعد یوان کی قدر میں یہ معمولی مندی متوقع تھی۔ رائٹرز کے تخمینوں کے مطابق پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے یو ایس ڈی اور سی این وائی (USD/CNY) کی ریفرنس ریٹ 6.7219 کے قریب مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، او سی بی (UOB) اور دیگر مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ چینی یوان امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6.7200 کی سطح کو ہدف بنا رہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں نئی حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی ڈالر کی کمزور طلب اور مجموعی اقتصادی اشاریوں کا بھی اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے اپنی کرنسی کا مڈپوائنٹ اندازوں کے مقابلے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ کمزور سمت میں طے کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکام کرنسی کی قدر میں بے لگام اضافے کو روکنا چاہتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کا مقصد برآمدات کو سہارا دینا اور غیر ضروری قیاس آرائیوں کا سدباب کرنا ہے۔ معاشی ماہرین آنے والے دنوں میں چینی معیشت اور کرنسی مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔