Technology
اقوام متحدہ اور ڈی فنٹی کا حکومتوں کے لیے خود مختار اے آئی پائلٹ
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے ڈی فنٹی فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر حکومتوں کے لیے خود مختار مصنوعی ذہانت کے پائلٹ پروجیکٹس کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں کو محفوظ، شفاف اور خود مختار اے آئی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اہم ادارے نے معروف بلاک چین اور ٹیکنالوجی تنظیم 'ڈی فنٹی فاؤنڈیشن' (DFINITY Foundation) کے اشتراک سے دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے خودمختار مصنوعی ذہانت (Sovereign AI) کے پائلٹ منصوبوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید اقدام کا بنیادی مقصد مختلف ممالک کی حکومتوں اور سرکاری اداروں کو ایک ایسی محفوظ، قابل اعتماد اور شفاف مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے جس پر وہ مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں۔ موجودہ دور میں جہاں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں ڈیٹا کی سکیورٹی اور قومی خودمختاری کے حوالے سے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں، جن کے تدارک کے لیے یہ شراکت داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس پراجیکٹ کے تحت حکومتوں کو روایتی اور مرکزی نوعیت کے کلاؤڈ سسٹمز پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جو اکثر بیرونی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ ڈی فنٹی کی جدید ترین ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجی کو اقوام متحدہ کے فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پائلٹ پراجیکٹس میں استعمال ہونے والا تمام ڈیٹا انتہائی محفوظ رہے اور اس پر متعلقہ ملک کا مکمل اختیار ہو۔ اس سے نہ صرف سرکاری امور میں شفافیت آئے گی بلکہ پالیسی سازوں کو پیچیدہ فیصلے کرنے میں بھی جدید اے آئی سسٹمز کی مدد حاصل ہوگی۔
ماہرین کے مطابق، خود مختار اے آئی کا یہ تصور ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے وہ اپنے مقامی قوانین اور ضوابط کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دے سکیں گے۔ اقوام متحدہ کا یہ ادارہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ نئی لہر دنیا کے پسماندہ خطوں تک بھی پہنچے تاکہ ڈیجیٹل تفریق کو کم کیا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان پائلٹ منصوبوں کے نتائج کا جائزہ لے کر انہیں مزید وسعت دی جائے گی، جس سے عالمی سطح پر حکومتی امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ایک نیا اور محفوظ دور شروع ہوگا۔