LIVE
Loading Breaking News...

روس میں فوجی بھرتیوں میں سختی اور خوف و ہراس کی اطلاعات

News Image
یوکرین کے خلاف موسم سرما کے متوقع حملے کی تیاریوں کے سلسلے میں روسی فوجی بھرتیوں کو مزید جارحانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بھرتی کے عمل کے دوران مبینہ طور پر دھمکیاں دینے اور سختی سے کام لینے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
ماسکو: یوکرین کے خلاف موسم سرما میں ایک بڑے فوجی حملے کی تیاریوں کے تناظر میں روس کے اندر فوجی بھرتیوں کے عمل کو مزید تیز اور جارحانہ بنایا جا रहा ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنے کے لیے اب زیادہ سخت اور مبینہ طور پر خوف و ہراس پھیلانے والے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ماسکو یوکرین کے محاذ پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مسلسل نئی افرادی قوت کی تلاش میں ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھرتی کے ان نئے اور سخت اقدامات نے روسی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماضی میں بھی جب جزوی متحرک کاری (mobilization) کا اعلان کیا گیا تھا تو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ہلچل مچ گئی تھی اور ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اب جبکہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی عسکری کارروائیوں میں شدت آنے کا خدشہ ہے، بھرتی کے حکام کی جانب سے مبینہ طور پر زبردستی اور دھمکی آمیز طریقوں کا استعمال بڑھ گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو جنگی دستوں کا حصہ بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جاری طویل جنگ نے روسی فوج کو افرادی قوت کی شدید کمی سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکام کی جانب سے اس قسم کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں جو کہ عامتہ الناس میں عدم اطمینان کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ روسی حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی سختی نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ آنے والے دنوں میں روس ایک نئے اور بڑے پیمانے پر متحرک کاری کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔