World
فلسطین ویکلی: اسرائیل کے غزہ اور مغربی کنارے پر حملے تیز
اسرائیل نے غزہ پر اپنے حملوں اور مغربی کنارے میں توسیع کی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مختلف ممالک کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کے باوجود عملی نتائج یا پابندیاں سامنے نہیں آئیں۔
جیرڈ کشنر کے خطے سے جانے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنے فوجی حملوں اور کارروائیوں میں نمایاں شدت پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، صیہونی فورسز کی جانب سے نہ صرف غزہ کے محاصرے اور بمباری میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کا سلسلہ بھی پوری تیزی سے جاری ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے اور عام فلسطینی شہریوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی ان جارحانہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں پر بمباری اور زمینوں پر قبضے کا یہ سلسلہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ تاہم، مبصرین کا ماننا ہے کہ اس زبانی مذمت کے باوجود عملی طور پر کوئی مؤثر اقدامات یا نتائج سامنے نہیں آئے ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے اس تازہ دور میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خوراک، ادویات اور پانی کی شدید قلت کی وجہ سے غزہ کے مکینوں کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی اور امداد کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو صورتحال مزید تباہ کن ہو جائے گی۔
دوسری جانب، مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کو جبری بے دخلی اور زمینوں کی ضبطی کا سامنا ہے۔ اسرائیلی آباد کاروں کی کارروائیوں اور فوجی چھاپوں نے روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ عالمی برادری سے یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ محض بیانات دینے کے بجائے عملی سفارتی اور اقتصادی دباؤ کا استعمال کرے تاکہ اس طویل المدتی تنازعے کا کوئی منصفانہ حل نکالا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔