LIVE
Loading Breaking News...

کوکس بازار میں روہنگیا مہاجرین کا احتجاج اور امدادی بحران

News Image
نسلی کشائی کے نو سال بعد بھی روہنگیا مہاجرین کو بنگلہ دیش میں شدید امدادی بحران اور کٹوتیوں کا سامنا ہے۔ مہاجرین نے ملائیشیا اور بھارت میں جبری بے دخلیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
بنگلہ دیش کے علاقے کوکس بازار میں مقیم روہنگیا مہاجرین نے اپنی بنیادی ضروریات، انسانی امداد میں کی جانے والی کٹوتیوں اور مختلفممالک میں ہونے والی جبری بے دخلیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ نسل کشی کے واقعے کو نو سال گزر جانے کے باوجود ان مہاجرین کے مصائب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی ہے، بلکہ دن بہ دن ان کے حالات زندگی مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کیمپوں میں رہنے والے ہزاروں افراد نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ مہینوں کے دوران، بنگلہ دیشی کیمپوں میں کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی اداروں کو فنڈنگ کی شدید کمی کا سامنا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر روہنگیا مہاجرین کو ملنے والے خوراک اور طبی سامان پر پڑا ہے۔ خوراک کے کوٹے میں کٹوتی کی وجہ سے کیمپوں میں غذائی قلت کے شکار بچوں اور خواتین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور امداد میں مزید کمی ان کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔ دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک بالخصوص ملائیشیا اور بھارت میں بھی روہنگیا مہاجرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان ممالک میں مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور جبری بے دخلیوں کے عمل میں تیزی آئی ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ روہنگیا رہنماؤں نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی برادری نے روہنگیا بحران کے دیرپا سیاسی اور انسانی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہ کیں، تو یہ خطہ مزید بڑے انسانی المیے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ مہاجرین کی اپنے وطن میانمار باعزت واپسی ہی اس بحران کا واحد مستقل حل ہے، لیکن میانمار کے موجودہ حالات میں اس کی واپسی کے امکانات فی الحال انتہائی معدوم دکھائی دیتے ہیں۔