LIVE
Loading Breaking News...

اڈیالہ جیل: عمران خان کے بعد تین مزید قیدیوں کی نجی اسپتال سے علاج کی درخواست

News Image
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد اڈیالہ جیل میں قید تین مزید قیدیوں نے بھی بہتر اور نجی اسپتال میں علاج کی استدعا کی ہے۔ ان قیدیوں میں ہیموفیلیا اور معدے کے امراض میں مبتلا قیدی بھی شامل ہیں۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے بعد اب تین مزید قیدیوں نے بھی اپنے طبی مسائل کے پیش نظر نجی اسپتالوں سے علاج کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جیل کے اندر قیدیوں کی طبی سہولیات پر قانونی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ کو موصول ہونے والی ان نئی درخواستوں نے حکام کی توجہ ایک بار پھر قیدیوں کی صحت کے معاملات کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ درخواست دینے والے قیدیوں میں سے ایک نے ہیموفیلیا اور معدے سے خون بہنے جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کا عارضہ ظاہر کیا ہے، جو کہ کسی بھی جیل کے ماحول میں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس قیدی کے وکلاء اور لواحقین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جیل کے اندر موجود طبی عملہ اور سہولیات اس نوعیت کے پیچیدہ اور جان لیوا مرض سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور قیدی نے ریمیٹولوجی یعنی جوڑوں اور ہڈیوں کے امراض کے ماہرین سے خصوصی طبی معائنے اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ عدالت اور متعلقہ حکام کو ارسال کی جانے والی ان درخواستوں میں قانونی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر قیدی کو قانون کے مطابق بنیادی صحت اور معیاری علاج کا حق حاصل ہے۔ جیل کے اندر بعض اوقات وبائی امراض اور مناسب خوراک کی نایابی کے باعث صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے، اس لیے سنگین امراض میں مبتلا افراد کو باہر کے بہتر طبی مراکز میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے مطالبات نے جیل انتظامیہ کے لیے انتظامات کو مزید سخت اور شفاف بنانے کے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت یا متعلقہ جیل حکام ان نئی درخواستوں کا جلد از جلد جائزہ لیں گے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی مناسب حکم جاری کریں گے۔ دوسری جانب سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی حقوق اور طبی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام کی طرف سے اس معاملے پر آئندہ چند دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔