LIVE
Loading Breaking News...

سیمسنگ سالو فار ٹومارو میں ہریانہ کے نوجوان موجدوں کی کامیابی

News Image
ہریانہ کے چار نوجوان موجدوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پر سیمسنگ سالو فار ٹومارو کے ٹاپ 40 میں جگہ بنالی ہے۔ یہ نوجوان ہنگامی الرٹس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید حل پر کام کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے میدان میں ہریانہ کے نوجوانوں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ گروگرام اور سونی پَت سے تعلق رکھنے والے چار ہونہار نوجوان موجدوں نے معروف عالمی ادارے سیمسنگ کے باوقار پروگرام 'سالو فار ٹومارو' کے ٹاپ 40 سیمی فائنلسٹس میں جگہ بنا لی ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں بلکہ پورے خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان نمایاں طلبا اور موجدوں میں نتیش کمار، گلشن کمار، نکی یادو اور پرینکا یادو شامل ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اس سال کے مقابلے میں ان نوجوانوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پروجیکٹ انتہائی منفرد اور عصری مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ہنگامی الرٹس کو مزید موثر اور توجہ طلب بنایا جا سکتا ہے، بالخصوص اس دور میں جہاں ہر اسمارٹ فون صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل مقابلہ کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں جب ڈیجیٹل نوٹیفیکیشنز اور سمارٹ فونز کی بھرمار ہے، عام ہنگامی پیغامات اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ان نوجوان موجدوں نے اس مسئلے کا ایک عملی اور تکنیکی حل تجویز کیا ہے جو ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے بچاؤ کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ سیمسنگ سالو فار ٹومارو کا یہ پلیٹ فارم نوجوان ذہنوں کو ایسے مسائل کے حل تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو معاشرے پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ ٹاپ 40 میں شمولیت کے بعد اب ان نوجوانوں کو اپنی ٹیکنالوجی اور آئیڈیا کو مزید نکھارنے کے لیے ماہرین کی زیر نگرانی تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس فیز کے دوران وہ اپنے پروٹو ٹائپ کو بہتر بنائیں گے تاکہ اسے تجارتی پیمانے پر قابل عمل بنایا جا سکے اور عام لوگوں کی زندگیوں میں اس کا حقیقی نفاذ ممکن ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے چھوٹے شہروں اور قصبات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلی لانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ گروگرام اور سونی پَت کے ان چاروں نوجوانوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب پلیٹ فارم اور حوصلہ افزائی ملے تو نوجوان نسل پیچیدہ ترین سماجی اور تکنیکی مسائل کا سستا اور پائیدار حل تلاش کر سکتی ہے۔ پوری ریاست اور ٹیکنالوجی برادری کی نگاہیں اب اس مقابلے کے اگلے مراحل پر مرکوز ہیں جہاں یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مزید مظاہرہ کریں گے۔