LIVE
Loading Breaking News...

پی بی او سی یوان ریٹنگ اور چینی کرنسی کی مارکیٹ صورتحال

News Image
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے یوان کی یومیہ ریٹنگ کو کمزور رکھنے کے فیصلے سے ڈالر کے مقابلے میں چینی کرنسی کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا جا سکے گا۔ حالیہ دنوں میں چین کی آف شور کرنسی نے مثبت اشاروں کے بعد نمایاں بہتری بھی ریکارڈ کی ہے۔
چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) کی جانب سے چینی کرنسی یوان کی یومیہ ریٹنگ میں نرمی کا عندیہ دیا گیا ہے جس کا مقصد مارکیٹ میں کرنسی کے بے تحاشا اضافے کو اعتدال پر لانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوان کی قدر میں ہونے والے اضافے کو کسی حد تک قابو میں رکھا جائے گا اور مارکیٹ میں توازن برقرار رہے گا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، چین نے اپنی کرنسی کا مڈپوائنٹ اندازوں کے مقابلے میں گزشتہ پانچ مہینوں کی بلند ترین کمزور سائیڈ پر مقرر کیا ہے جو کہ مرکزی بینک کی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ دوسری جانب، کمmerzbank اور دیگر مالیاتی اداروں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی یوان اور امریکی ڈالر کے درمیان جوڑا ایک بتدریج رجحان کی طرف گامزن ہے۔ بیجنگ کی جانب سے پالیسی سپورٹ کے نئے اشارے ملنے کے بعد چین کی آف شور کرنسی نے تین سال کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا تھا، جس سے سرمایہ کاروں میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ تاہم، مرکزی بینک کی تازہ ترین مداخلت اور کمزور یومیہ فکسنگ اس بات کی غماز ہے کہ حکام کرنسی کی قدر میں اچانک اور غیر مستحکم چھلانگوں کے حق میں نہیں ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تجارتی حرکیات اور عالمی معیشت کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر چینی حکام احتیاط سے قدم اٹھا رہے ہیں۔ طویل مدت میں اس پالیسی کے اثرات برآمدات اور ملکی تجارت پر کس طرح مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں لگایا جا سکے گا۔ اس پورے منظر نامے میں سرمایہ کار اور تجارتی ادارے خاص طور پر سی این وائی اور یو ایس ڈی کے درمیان ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی خطرے سے بچا جا سکے اور نئے مالیاتی مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔