World
نیوزی لینڈ میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا قانون پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا مقصد بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے منفی اثرات اور ذہنی نقصانات سے محفوظ بنانا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے حال ہی میں ایک اہم قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ممکنہ نقصانات اور منفی ذہنی اثرات سے بچانا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں کم عمر بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے سوشل میڈیا کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا مقصد نہ صرف بچوں کو آن لائن ہراسانی اور منفی مواد سے محفوظ رکھنا ہے بلکہ ان کی توجہ کو تعلیم اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف مبذول کرانا بھی ہے۔ دنیا بھر میں بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے، اور اب نیوزی لینڈ بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جو اس حوالے سے سخت اور عملی قوانین نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس قانون کے نفاذ سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جائے گی تاکہ اس کے نفاذ کو ممکنہ حد تک مؤثر بنایا جا سکے۔
تجویز کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان اس معاملے پر بحث شروع ہو چکی ہے جہاں ایک طرف والدین کی بڑی تعداد اس قدم کو سراہ رہی ہے، وہیں دوسری طرف ڈیجیٹل آزادی کے حامی کچھ خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ بچوں کا تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کے حقوق اور سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس بل پر آئندہ دنوں میں مزید بحث متوقع ہے، جس کے بعد اس کی حتمی شکل کا فیصلہ کیا جائے گا۔