LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اقتصادی پابندیوں اور ایران کی حکمت عملی کا جائزہ

News Image
امریکی انتظامیہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کو اقتصادی ڈی ڈے قرار دیا ہے جو تہران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تاہم، ایرانی قیادت ماضی میں بھی اس طرح کی پابندیوں کا کامیابی سے سامنا کر چکی ہے اور وہ اب بھی اس سے نمٹنے کے لیے پرامید ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی جانے والی نئی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کو واشنگٹن میں اقتصادی ڈی ڈے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس بے مثال معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کی قیادت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور وہ خطے میں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کے مالیاتی نظام کو مفلوج کرنا اور اس کی برآمدات کو صفر تک پہنچانا ہے تاکہ حکومت اندرونی طور پر دباؤ کا شکار ہو جائے۔ تاہم، تہران کے رہنماؤں کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ وہ اس سے قبل بھی کئی دہائیوں تک امریکی اور مغربی پابندیوں کا کامیابی سے مقابلہ کر چکے ہیں۔ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے تہران کو یقین ہے کہ وہ اس نئی اقتصادی یلغار کا توڑ بھی نکال لیں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل تجارتی راستے اور اندرونی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جو اس بحران میں مددگار ثابت ہوں گے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پابندیباں ایرانی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس سے تہران کے سیاسی رویے میں فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔ ماضی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ جب جب تہران پر بیرونی دباؤ بڑھایا گیا ہے، وہاں کی حکومت نے سخت گیر موقف اختیار کیا ہے بجائے اس کے کہ وہ مذاکرات کی میز پر جھک جائیں۔ اس صورتحال میں خطے میں ایک بار پھر تناؤ میں اضافے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، وہیں ایران اپنی مزاحمتی معیشت کے بل بوتے پر اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ اقتصادی جنگ تہران کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کرتی ہے یا ایرانی قیادت ایک بار پھر اس طوفان کا کامیابی سے رخ موڑنے میں کامیاب رہتی ہے۔