World
روانڈا کا کانگو پر مسلح گروہ کی حمایت کا الزام
روانڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف ڈی ایل آر کا خطرہ مشرقی کانگو میں اس کی مسلسل فوجی موجودگی کو جواز فراہم کرتا ہے۔ یہ بیان فائر بندی کی تصدیق کے لیے جاری کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
روانڈا کی حکومت نے ایک بار پھر جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ایک مسلح گروہ کی حمایت کر رہا ہے۔ روانڈا کا موقف ہے کہ اس مسلح گروہ کی موجودگی اس کی ملکی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے، اور یہی وجہ مشرقی کانگو میں اس کی فوج کی مسلسل مداخلت اور موجودگی کا جواز بنتی ہے۔ یہ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوںممالک کے درمیان طے پانے والی فائر بندی کی تصدیق اور اس پر عمل درآمد کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سفارتی کوششیں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات خطے میں جاری امن مذاکرات اور فائر بندی کے عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں، جس سے پہلے سے ہی جنگ زدہ علاقے کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ مشرقی کانگو کا خطرہ طویل عرصے سے مسلح گروہوں کی آماجگاہ رہا ہے جہاں روانڈا اور کانگو کے باہمی تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں۔ روانڈا کا اصرار ہے کہ جب تک ایف ڈی ایل آر (FDLR) نامی مسلح گروہ کا خاتمہ یا اس کی طرف سے لاحق خطرات کا تدارک نہیں کیا جاتا، تب تک اس کی سکیورٹی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ دوسری طرف، کانگو کی حکومت روانڈا پر الزام لگاتی ہے کہ وہ باغی گروہ ایم 23 کی مدد کر رہا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دیرپا امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ خطے کے غریب عوام کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے، کیونکہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں افراد پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور انسانی بحران سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔