Pakistan
ہری پور میں پانچ سالہ لاپتہ بچی کی لاش برآمد، چار ملزمان گرفتار
خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں دو ہفتے قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ بچی کی لاش ایک غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس نے اس لرزہ خیز واقعے میں ملوث چار ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
پشاور اور ہری پور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس اور ریسکیو حکام نے سوموار کی رات خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے نیم شہری علاقے سے دو ہفتے قبل گھر کے باہر سے لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ بچی کی لاش برآمد کر لی ہے۔ ریسکیو اور طبی ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی ایک بورڈ کمیٹی کی جانب سے تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منور آفریدی نے بتایا کہ خواتین ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ لاش کا معائنہ کر رہا ہے اور حتمی رپورٹ آنے سے پہلے موت کی اصل وجوہات یا چوٹوں کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ہری پور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شفی اللہ گنڈاپور نے بتایا کہ پانچ سالہ بچی 10 اگست کی شام 6 بجے کے قریب اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 364-اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور سی سی ٹی وی فوٹیج اور علاقے کی جیو فینسنگ کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن میں سے ایک نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کروایا۔ اعترافی بیان میں انکشاف کیا گیا کہ چار ملزمان اس مکروہ فعل میں ملوث تھے جنہوں نے بچی کو اغوا کرنے کے بعد ماڈل ٹاؤن کے قریب زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں ایک ویران کنویں میں پھینک کر لاش کو پتوں سے چھپا دیا۔ چوتھے ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے ہری پور یونیورسٹی کے قریب ایک گودام کے کنویں سے بچی کی لاش برآمد کی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی اس لرزہ خیز واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔