LIVE
Loading Breaking News...

براڈ پیک سانحہ: امریکی کوہ پیما کی لاش سکردو منتقل، ریسکیو آپریشن جاری

News Image
براڈ پیک پر ماہِ گزشتہ برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ ملوری گیس کی لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، سپنتک چوٹی پر جان کی بازی ہارنے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش کی واپسی کے لیے بھی امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
گلگت بلتستان کے کلاکم سلسلے میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر گزشتہ ماہ پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ ملوری گیس (Sarah Mallory Geis) کی لاش بالآخر بیس کیمپ سے سکردو منتقل کر دی گئی ہے۔ یہ امریکی کوہ پیما اس دس رکنی مہم جو ٹیم کا حصہ تھی جو برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی قیادت میں براڈ پیک سر کرنے گئی تھی، تاہم 30 جولائی کو ایک خوفناک برفانی تودے کی زد میں آ کر یہ تمام کوہ پیما لاپتہ ہو گئے تھے، جنہیں بعد میں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ خراب موسم اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے لاشوں کی واپسی کا کام انتہائی مشکل تھا، تاہم گزشتہ روز مقامی پورٹرز نے طویل جدوجہد کے بعد سارہ ملوری گیس کی لاش کو تلاش کر کے بیس کیمپ تک پہنچایا۔ الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری کے مطابق، منگل کے روز پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے اس لاش کو بیس کیمپ سے کامیابی کے ساتھ سکردو کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر دیا۔ ضابطہ کی تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد تدفین کے لیے لاش کو اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔ اس مہم جو ٹیم کے ایک اور آخری لاپتہ رکن نواں تھنڈو شیرپا کی تلاش کا عمل بھی تاحال جاری ہے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع سپنتک چوٹی (گولڈن پیک) پر جان کی بازی ہارنے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش کو نیچے لانے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ پینتیس سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق 20 اگست کو 7,027 میٹر بلند سپنتک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران ہائی الٹیٹیوڈ سکنس (بلندی کی بیماری) کا شکار ہو کر کیمپ 3 کے قریب انتقال کر گئی تھیں۔ خراب موسم کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم موسم بہتر ہونے پر چھ ہائی الٹیٹیوڈ پورٹرز پر مشتمل ٹیم نے دوبارہ سے اس کٹھن آپریشن کا آغاز کر دیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ریسکیو ٹیم بیس کیمپ سے روانہ ہو کر کیمپ 2 کی طرف بڑھ رہی ہے اور تمام حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراکروم کے پہاڑی سلسلوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسم کے تیزی سے بدلتے ہوئے مزاج کوہ پیماؤں کے لیے نت نئے چیلنجز اور شدید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔