Politics
سینیٹ اجلاس: عمران خان کی پمز منتقلی پر حکومت اور پی ٹی آئی میں تنازع
اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی سینیٹرز کے درمیان بانی پی ٹی آئی کی پمز اسپتال منتقلی کے معاملے پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے تمام معاملات عدلیہ پر چھوڑنے پر زور دیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سینیٹ کے اجلاس کے دوران سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی پمز اسپتال منتقلی کے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی اور لفظی وار کیے۔ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے ماضی کے فیصلوں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر کھل کر اپنے دلائل دیے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے درمیان ایوان میں ہونے والی گرما گرم بحث کے دوران مختلف قانونی اور آئینی نکات زیر بحث لائے گئے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز کا موقف تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور صحت کے مسائل پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، جبکہ حکومتی بنچوں کی طرف سے جوابی وار کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالتی امور کو سینیٹ میں سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ توہین عدالت کی درخواست کو باقاعدہ نمبر الاٹ کر دیا گیا ہے اور اس کی جلد سماعت کے لیے بھی باضابطہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے بھی پارٹی مؤقف واضح کیا اور کہا کہ اس معاملے کو عدالتی پلیٹ فارم پر ہی حل کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اس قسم کی تلخ کلامی اس بات کی غماز ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین کشیدگی میں فی الحال کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ دونوں اطراف سے معاملات کو عدالتوں کے فیصلوں کے تابع کرنے کی بات ضرور کی جارہی ہے مگر سیاسی میدان میں بیان بازی کا یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔