Technology
گارڈنٹ ہیلتھ کو ڈی این اے پیٹنٹ تنازع پر 245 ملین ڈالر جرمانہ
امریکہ کی ایک عدالت نے ڈی این اے سیکوینسنگ کے تنازع پر گارڈنٹ ہیلتھ کو 245 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیٹنٹ کی خلاف ورزی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں سامنے آیا ہے۔
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ڈی این اے سیکوینسنگ کے پیٹنٹ سے جڑے ایک طویل تنازع میں گارڈنٹ ہیلتھ (Guardant Health) کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو 245 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ یہ قانونی جنگ بائیوٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق کے شعبے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں کمپنیاں جدید طبی ٹیکنالوجی کے حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رہی ہیں۔
عدالت کی جانب سے یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب جیوری نے یہ فیصلہ دیا کہ گارڈنٹ ہیلتھ کی جانب سے استعمال کی جانے والی بعض ٹیکنالوجیز نے فریق مخالف کے دائر کردہ پیٹنٹ حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد مارکیٹ میں بائیوٹیکنالوجی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گارڈنٹ ہیلتھ کینسر کی تشخیص اور جینیاتی جانچ کی جدید خدمات فراہم کرنے والی ایک معروف کمپنی ہے، تاہم اس عدالتی فیصلے کے بعد اسے مالی طور پر ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ڈی این اے سیکوینسنگ کے میدان میں کام کرنے والی دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ضابطہ کاری اور پیٹنٹ کے حصول کے طریقہ کار میں مزید سختی آسکتی ہے۔
مقدمے کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی اور اپیل کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کیونکہ گارڈنٹ ہیلتھ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں جانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دوسری جانب، مدعی فریق نے اس فیصلے کو اپنے حقوق کی جیت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ جینیاتی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں دانشورانہ املاک (انٹلیکچوئل پراپرٹی) کے قوانین کا مزید احترام کیا جائے گا۔