LIVE
Loading Breaking News...

بینک اے ٹی ایمز سے جعلی پانچ ہزار روپے کے نوٹوں کا انکشاف

News Image
سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم سسٹمز سے پانچ ہزار روپے کے جعلی نوٹ جاری ہو رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس سنگین معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اسلام آباد: سینیٹ کی ایک بااختیار قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق ملک کے مختلف تجارتی بینکوں کے اے ٹی ایم (ATM) سے پانچ ہزار روپے مالیت کے جعلی نوٹ نکلنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس معاملے نے عوام اور کاروباری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اے ٹی ایمز کو عام طور پر سب سے محفوظ مالیاتی ذرائع سمجھا جاتا ہے۔ اجلاس کے دوران اراکین سینیٹ نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ عوام اپنی محنت کی کمائی بینکوں میں جمع کرواتے ہیں اور جب وہ اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں جعلی کرنسی فراہم کی جاتی ہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف بینکاری کے نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ عام شہریوں کو شدید مالی نقصان اور قانونی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ مالیاتی اداروں کے حکام کو طلب کر لیا ہے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ اے ٹی ایمز میں نقدی لوڈ کرنے والے سسٹمز کو مزید مانیٹر کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جعلی نوٹوں کی گردش کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین اقتصادیات نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بینکنگ سیکورٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ اس قسم کے فراڈ کی دوبارہ روک تھام کی جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک اس معاملے پر جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد ملوث افراد یا سقم کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔