World
اسرائیل کا فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کا تربیتی مرکز خالی کرانے کا فیصلہ
اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے تربیتی مرکز کو خالی کرانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی اداروں کے کردار پر مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (اونروا) کے ایک اہم تربیتی مرکز کو خالی کرانے کے لیے باضابطہ اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزراء اور حکام کی جانب سے اس فیصلے کی تصدیق کی گئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب پہلے ہی اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان فلسطینی علاقوں میں امداد کی ترسیل اور فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ یہ مرکز مبینہ طور پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں یا سکیورٹی خدشات کی زد میں ہے، تاہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ اونروا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ ہزاروں فلسطینی نوجوانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا جو اس مرکز سے استفادہ کرتے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس میں واقع اس تربیتی مرکز کو خالی کرانے کے نوٹس اور دیگر قانونی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر مزید گرما گرمی متوقع ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے اراکین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو خطے میں انسانی بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس تنازع کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔