World
برطانیہ کا یوکرین کو میزائل بلیو پرنٹس کی فراہمی، روس کی سخت تنقید
برطانوی وزیراعظم کے دورۂ کیف کے دوران یوکرین کو جدید میزائلوں کے بلیو پرنٹس فراہم کرنے پر روس نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ برطانیہ اس اقدام سے جاری تنازع میں مزید اشتعال انگیزی اور آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہا ہے۔
ماسکو: روس نے برطانوی وزیراعظم کے پہلے غیر ملکی دورۂ کیف کے موقع پر یوکرین کو جدید اینگلو فرنچ میزائلوں کے بلیو پرنٹس کی منتقلی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا یہ قدم خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور جنگی شعلوں کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ کریملن کے ترجمان نے اس اقدام کو کھلی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تنازع کے سیاسی حل کی راہیں مزید مسدود ہو جائیں گی۔برطانوی وزیراعظم نے اپنے اس دورے کے دوران یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو خود کفیل بنانے پر زور دیا اور یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے جدید میزائل ٹیکنالوجی کے بلیو پرنٹس باضابطہ طور پر حوالے کیے۔ اس اقدام کا مقصد یوکرین کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ملکی سطح پر ہی جدید دفاعی آلات اور میزائل تیار کر سکے تاکہ روسی افواج کے خلاف زمینی دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کا یہ عمل دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماسکو پہلے ہی مغربی ممالک کو خبردار کرتا رہا ہے کہ یوکرین کو جدید ترین ہتھیاروں اور ان کی ٹیکنالوجی کی فراہمی براہ راست اس تنازع میں مغربی مداخلت کے زمرے میں آتی ہے، جس کے طویل المدتی اور خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب، کیف میں یوکرینی قیادت نے برطانوی وزیراعظم کے اس دورے اور دفاعی تعاون کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ ملکی دفاع کو مستحکم کرنے اور ملکی صنعت کے ذریعے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یہ بلیو پرنٹس بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی برادری ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہے کہ آیا یہ پیشرفت جنگ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی یا اس سے کشیدگی میں مزید خطرناک اضافہ ہوگا۔