World
گیسلین میکسویل کی اپیل عدالت میں مسترد
امریکی جج نے جیفری ایپسٹین کی سابقہ ساتھی گیسلین میکسویل کی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اس اپیل کو غیر سنجیدہ اور بے بنیاد قرار دیا۔
امریکی عدالت نے جیفری ایپسٹین کی سابقہ ساتھی اور مجرم گیسلین میکسویل کی جانب سے دائر کی جانے والی تازہ ترین اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ میکسویل کی جانب سے اپنی سزا اور جیل سے رہائی کے لیے کی جانے والی یہ کوشش بالکل بے بنیاد اور غیر سنجیدہ نوعیت کی تھی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ پہلے ہی اپنے سنگین جرائم کی پاداش میں طویل قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
گیسلین میکسویل کو اس سے قبل کم عمر لڑکیوں کے استحصال اور جیفری ایپسٹین کے گھناؤنے نیٹ ورک میں معاونت کرنے کے جرم میں عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد میکسویل کی قانونی ٹیم نے مختلف قانونی چارہ جوئی کا سہارا لیتے ہوئے ان کی قبل از وقت رہائی یا سزا میں تخفیف کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں، جنہیں جج نے یکسر مسترد کر دیا۔
عدالتی حکام اور استغاثہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کے دوران پیش کیے گئے شواہد اتنے ٹھوس تھے کہ میکسویل کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی معقول جواز نہیں بچا۔ اس تازہ فیصلے کے بعد میکسویل کی جیل سے باہر آنے کی تمام قانونی راہیں مزید محدود ہو گئی ہیں، اور وہ قانون کے مطابق اپنی سزا پوری کرنے کی پابند ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہائی پروفائل مقدمات میں عدالتیں کسی بھی قسم کے دباؤ یا کمزور عذر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے جڑے اس باب میں عدالت کے اس سخت رویے کو سراہا جا رہا ہے، اور متاثرین کے حامیوں نے اسے انصاف کی ایک اور فتح قرار دیا ہے۔