World
اسرائیلی وزیر اعظم نیتنیاہو کی جنگی بیان بازی اور مذہبی استعارے
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے تنازع کے دوران قدیم مذہبی متن کا استعمال کرتے ہوئے پیشگی جنگ کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اس نوعیت کی بیان بازی کا مقصد بین الاقوامی قوانین سے گریز کرنا اور جنگی مقاصد کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے جاری جنگی مہم کے دوران مذہب اور قدیم مذہبی تاریخ کا استعمال ایک نیا بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتنیاہو اپنی تقاریر اور بیانات میں اکثر ایسے تاریخی اور مذہبی استعاروں کا سہارا لیتے ہیں جو موجودہ عسکری کارروائیوں کو ایک اعلیٰ دینی مقصد کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد محض اندرونی سیاسی حمایت کو مضبوط کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو پسِ پشت ڈالنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا خیال ہے کہ جب کسی جدید سیاسی تنازع کو مذہبی روایات اور تقدس کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، تو اس میں فریقین کے درمیان مفاہمت کی گنجائش انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ جنگی بیانیے میں اس طرح کی مذہبی ترویج سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔ بین الاقوامی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قسم کے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کیونکہ یہ تنازع کو ایک طویل المدتی اور ناقابلِ حل شکل دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سیاست میں مذہب کے سیاسی استعمال پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں قائدین اپنے سیاسی مقاصد کے لیے قدیم مقدس متن کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔