World
غزہ میں اسرائیلی دھمکی کے بعد بچے کے رونے کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی
غزہ میں ایک کم عمر فلسطینی بچہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے پتنگ بازی پر دی جانے والی دھمکی کے بعد شدتِ غم سے رو پڑا۔ اس واقعے نے محصور علاقے میں بچوں کی ذہنی اور جذباتی حالت پر پڑنے والے گہرے اثرات کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
غزہ کی پٹی سے ایک انتہائی دردناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معصوم فلسطینی بچہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے ملنے والی دھمکی کے بعد سسک سسک کر رو پڑا۔ اس بچے کا گناہ صرف اتنا تھا کہ اس نے پٹی کے محصور ماحول میں کچھ لمحوں کی خوشی تلاش کرنے کے لیے پتنگ اڑانے کی کوشش کی تھی۔ اس قسم کے معمولی اور بچوں کے معصوم کھیلوں کو بھی اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے نشانہ بنایا جانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محصور علاقے کے باسیوں پر کس قسم کے نفسیاتی دباؤ ڈالے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس بچے کو پتنگ بازی کرنے پر سخت نتائج کی دھمکی دی گئی تھی، جس سے وہ شدید خوفزدہ ہو گیا اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ کے مکین، خصوصاً کم سن بچے، پہلے ہی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مسلسل جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں نے بچوں کی نفسیات پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، جہاں کھلونوں اور کھیلوں کی جگہ خوف اور دہشت نے لے لی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کی توجہ مبذول کرائی ہے، جنہوں نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت کا سامنا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ غزہ میں بچوں کا بچپن کس طرح جنگ اور محاصرے کی نذر ہو رہا ہے، جہاں پتنگ اڑانا بھی جرم بنادیا گیا ہے۔